منگلورو ،4؍ستمبر(ایس او نیوز)بی جے پی کی جانب سے ’’منگلورو چلو‘‘ نامی بائک ریلی کا ایجنڈا خطرناک ہے۔ بائک ریلی کے ذریعہ بی جے پی دکشن کنڑا ضلع میں فرقہ وارانہ فسادات بھڑکانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ہندو مسلم کشن فسادات کو ہوا دینے کے لئے بی جے پی نے ایجنڈا تیارکیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار یووا کانگریس کے ضلع صدر متھن لانے منگلورو میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پو لر فرنٹ آف انڈیا ( پی ایف آئی ) اور سنگھ پریوار دونوں تنظیمیں بنیاد پر ست تنظیمیں ہیں۔ دونوں تنظیموں پر فوراً پابندی عائد کرنا چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دکشن کنڑا ضلع میں بہت سارے قتل معاملات میں سنگھ پریوار کی تنظیموں کے کارکنان کی شمولیت کی خبریں گردش میں ہیں یہاں جتنے بھی قتل کی واردتیں رونما ہوئی ہیں ان میں سنگھ پریوار کے کارکنا ن کے شریک ہونے کے پختہ ثبوت ملے ہیں۔ جب معاملہ ایسا ہے تو شرتھ مڈیوال کے قتل کو مد نظر رکھتے ہوئے احتجاجی جتھا چلانے کے لئے بی جے پی کی آمادگی تشویشناک ہے۔ بی جے پی کو یہ اخلاقی حق حاصل نہیں ہے کہ وہ احتجاجی ریلی منعقد کرے۔ اس بائک ریلی کا مقصدر ضلع کو فرقہ وارانہ ہم آہنگی میں دراڑ پیدا کرنا ہے اور امن شکنی حالات پیدا کرتے ہوئے الیکشن کے قریب ضلع کو فرقہ وارانہ فسادات کی آگ میں جھونکنا بی جے پی کا مقصد ہے۔ دکشن کنڑا ضلع میں بہت سارے قتل کے معاملات پیش آچکے ہیں جس سے دنیا بھر میں ضلع کی بندنامی ہوئی ہے۔ نتیجہ میں ضلع کی ترقی کچھوے کی چال ہو کر رہ گئی ہے۔ ملٹی نیشنل ( ہمہ ملکی) کمپنیاں اس ضلع کا رخ کرنے سے کترارے ہیں۔ اس درمیان اگر ضلع میں پھر سے فرقہ وارانہ بھڑک اٹھیں تو ضلع کی معاشی نمو میں انتہائی کمی آجائے گی اور ضلع پسماندہ اضلاع میں شمال ہوجائے گا۔ دوسری جانب بی جے پی رکن پارلیمان نلن کمار کٹیل نے پریس کانفرنس میں ریاستی کانگریس حکومت پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت پولیس کے ذریعہ منگلورو چلو بائک ریلی کو روکنے کی کوشش کررہی ہے۔ انتخابی ریلی میں شرکت کے لئے آئے ہوئے کارکنوں کو طے شدہ آڈیٹوریم میں پولیس ٹھہرنے کی اجازت نہیں دے رہی ہے۔ ریاست کے مختلف علاقوں سے کارکن ریلی میں شرکت کے لئے آرہے ہیں۔ اس لئے ہم ان تمام کارکنان کو خفیہ مقام پر ٹھہرنے کا انتظام کریں گے۔ کسی بھی حال میں احتجاج ہو کر ہی رہے گا۔ 7؍ ستمبر کو ہورہی بائک ریلی میں دس ہزار سے زائد کارکنان حصہ لے رہے ہیں ۔ پروگرام کو روکنے کی کوشش کی گئی تو نتیجہ میں رونما ہونے والے معاملات کی ذمہ دار حکومت ہوگی۔ ریاست میں سدارامیا حکومت ایمرجنسی کی صورتحال پیدا کررہی ہے۔ نظم و نسق کو درست کرنے کا کام حکومت کا ہے۔ حکومت پولیس کے ذریعہ دھمکی دے رہی ہے کہ بائک ریلی روک لی جائے۔